Hur Ali News

صرف تیل کی قیمتوں کا موازانہ ہی کیوں؟فی کس آمدن‘معاشیات اور دیگر عوامل کا موازانہ کیوں نہیں کیا جاتا؟

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ دنیا میں تیل کی قیمت گزشتہ چند روز میں 100 فیصد بڑھی ہے جبکہ پاکستان میں ہم نے صرف 22 فیصد اضافہ کیا اور دنیا میں تیل کی پیداوار کرنے والے 19 ممالک کے سوا پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت سب سے کم ہے اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا میں گندم کی قیمت میں 37 فیصد اضافہ ہوا، پاکستان میں صرف 12 فیصد بڑھائی گئیں، چینی کی قیمت میں 40 فیصد اضافہ ہوا پاکستان میں صرف 21 فیصد بڑھائی گئی.
وفاقی کابینہ اور اب وزیراعظم کی جانب سے قیمتوں کے موازنے کو ماہرین مہنگائی کی چکی میں پستے عوا م کے زخموں پر نمک قراردیتے ہیں کیونکہ پاکستان میں حکومتیں تیل کی مصنوعات اور دیگر اشیاءکی قیمتوں کا موازانہ تو دوسرے ملکوں سے کرتی ہیں مگر ان کی معیشت‘کرنسی‘فی کس آمدن‘مجموعی قومی آمدن سمیت بہت سارے معاملات پر خاموشی اختیار کیئے رکھتی ہیںپیٹرولیم مصنوعات کا ذکر کرتے ہوئے حکمران خطے کے دو ممالک بھارت اور بنگلہ دیش کا حوالہ دیتے ہیں جہاں وزیراعظم عمران خان اور کابینہ کے دعووں کے مطابق پاکستان سے ڈیزل اور پٹرول کی قیمتیں کہیں زیادہ ہیں وزیر خزانہ شوکت ترین تو پاکستان کا موازانہ برطانیہ سے کرچکے ہیں ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں پاکستان سے بھی زیادہ مہنگائی ہے ان کا کہنا تھاپاکستان کے مقابلے میں برطانیہ میں قیمتیں 31 فیصد بڑھی ہیں تاہم انہوں نے قوم کو یہ نہیں بتایا کہ برطانیہ میں فی کس آمدن کتنی ہے‘برطانوی پاﺅنڈ کی امریکی ڈالر کے مقابلے میں قدرکیا ہے ؟برطانیہ کی معیشت اور مجموعی قومی آمدنی کتنی ہے؟.
اس سلسلہ میں ایڈیٹر”اردوپوائنٹ“میاں محمد ندیم کا کہنا ہے کہ اس وقت عالمی منڈی میں تیل کی قیمت70ڈالر فی بیرل ہے پاکستان پر اس کے اثرات زیادہ اس لیے مرتب ہورہے ہیں کہ ہم ڈالر کو کنٹرول نہیں کرپارہے جس سے قیمتوں میں اتنا زیادہ فرق آرہا ہے پاکستان میں اس کے ساتھ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی خام تیل کی درآمد کومزید مہنگا بنا رہی ہے.
انہوں نے کہا کہ حکومت نے گاڑیوں کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے بھی اقدامات نہیں کیئے گاڑیوں کا سمندر بننے سے تیل کی مد میںملک کے درآمدی بل میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اس کے علاوہ فضائی آلودگی کے لیے کیے جانے والے اقدامات بھی موثرثابت نہیں ہورہے کیونکہ گاڑیوں کے دھوئیں سے ہم ہزاروں کارخانوں جتنی گرین ہاﺅس گیسیں پیدا کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ ایک طرف حکومت حکومت کہتی ہے کہ رواں مالی سال میں پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کی مد میں 600 ارب روپے ٹیکس وصولی کا ہدف مقرر کیا ہوا ہے تاہم وہ صرف 5.62 روپے فی لیٹروصول کررہی ہے جبکہ دوسری جانب درآمدی مرحلے پر حکومت کسٹم ڈیوٹی اور ایڈوانس ٹیکس کی مد میں اچھا خاص ٹیکس وصول کرتی ہے.
انہوں نے کہاکہ پاکستان آج سے کچھ سال قبل 11 سے 12 ارب ڈالر کی پٹرولیم مصنوعات درآمد کر رہا تھا اور اب ان مصنوعات کا درآمدی بل 19 سے 20 ارب ڈالر ہو چکا ہے جس کا مطلب ہے کہ امپورٹ اسٹیج پر حکومت زیادہ ٹیکس پٹرولیم مصنوعات پر حاصل کر رہی ہے. حکومت کے وزیروں کی جانب سے کیے جانے والے ان دعوﺅں کے مطابق پاکستان میں ڈیزل اور پٹرول کی کم قیمت کا دنیا خاص کر دنیا اور خاص کر خطے کے دوسرے ممالک سے موازنہ صحیح ہے تاہم یاد رہے کہ یہ موازنہ اس وقت کیا جا رہا ہے جب پاکستان کی معیشت میں شرح نمو مستحکم نہیں تو دوسری جانب پاکستان میں آمدنی کے ذریعے سکڑ رہے ہیں.
اس سلسلہ میں میاں محمد ندیم کا کہنا تھا کہ پاکستان میں مہنگائی کی شرح8 فیصد ہے جبکہ اس کے مقابلے میں بھارت میں یہ شرح 4.6 فیصد، بنگلہ دیش میں 5.9 فیصد، سری لنکا میں 4.6 فیصد اور نیپال میں 4 فیصد ہے. اس وقت پاکستان میں پٹرول کی فی لیٹر قیمت 127.30 روپے تک جا پہنچی ہے اور اگر ڈالر میں اس قیمت کا تعین کیا جائے تو یہ تقریباً 0.70 ڈالر فی لیٹر بنتی ہے دوسری جانب بھارت میں پٹرول کی قیمت مقامی کرنسی میں 105 روپے فی لیٹر ہے جو ڈالر کی مقامی شرحِ تبادلہ کے حساب سے 1.34 ڈالر فی لیٹر اور پاکستانی روپوں میں 230 روپے فی لیٹر بنتی ہے کیونکہ پاکستانی روپے کی قدر انڈین روپے کے مقابلے میں کہیں کم ہے.
اسی طرح بنگلہ دیش میں بھی پٹرول کی قیمت مقامی کرنسی میں 89 ٹکا فی لیٹر ہے جو ڈالر کی مقامی شرحِ تبادلہ کے حساب سے 1.05 ڈالر فی لیٹر اور پاکستانی روپوں میں 178 روپے فی لیٹر بنتی ہے انہوں نے کہا حکومت یہ موازنہ صرف پٹرول کی قیمت پر کیوں کر رہی ہے؟ حکومت کو یہ موازنہ تمام روزمرہ استعمال کی چیزوں پر کرنا چاہیے تو پھر پتا چلے گا کہ پاکستان میں اس وقت مہنگائی کی کیا بلند ترین سطح ہے اور اس کے مقابلے میں دوسرے ملک خاص کر خطے کے ملک پاکستان سے بہتر پوزیشن میں ہیں.
انہوں نے کہا حکومت کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ اس وقت چینی اور گندم کی قیمت بھارت اور بنگلہ دیش میں کس سطح پر ہے اور ہم اس وقت کس قدر مہنگی گندم اور چینی خریدنے پر مجبور ہیں یہ موازنہ اس لیے بھی صحیح نہیں ہے کہ صرف پٹرول کی قیمت کو الگ سے نہیں دیکھا جاتا بلکہ اسے بحیثیت مجموعی معیشت کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے. انہوں نے کہا کہ ضرورت کی چیزوں کی خریداری کا تعلق قوت خرید سے ہے پاکستان میں قوت خرید کم ہوئی ہے جس کا تعلق ملک کی فی کس آمدن سے ہے پاکستان کی فی کس آمدن کا موازنہ بنگلہ دیش اور بھارت سے کیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ پاکستان اس لحاظ سے دونوں ممالک سے کتنا پیچھے ہے.
انہوں نے کہا کہ موجودہ وقت میں بنگلہ دیش میں جی ڈی پی کے لحاظ سے فی کس آمدن 2227 ڈالر ہے اور بھارت میں 1961 ڈالر ہے جب کہ دوسری جانب پاکستان میں فی کس آمدن 1279 ڈالر ہے جو خطے میں سب سے کم ہے انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کو ایسی باتیں کہتے ہوئے شر م کرنی چاہیے خطے کے باقی ملکوں کے مقابلے میں سب سے کم قوت خرید اور مہنگائی کی شرح سب سے زیادہ ہے اس میدان میں ہم بھوٹان سے بھی موازانہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں.
میاں محمد ندیم نے کہا کسی ملک میں قوت خرید میں اس وقت اضافہ ہوتا ہے جب وہاں لوگوں کی آمدنی بڑھ رہی ہواگر بھارت اور بنگلہ دیش میں پیٹرول مہنگا ہے تو وہاں پاکستان کے مقابلے میں لوگوں کی قوت خرید بھی بہت زیادہ ہے حکومت یہ بات چھپا لیتی ہے کہ پاکستان اور دوسرے ملکوں میں آمدنی کی سطح کے درمیان کتنا فرق ہے اسی طرح یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ پاکستان اور دوسرے ملکوں کی معیشت میں شرح نمو میں بھی کتنا فرق ہے انہوں نے کہا کہ اس وقت حقیقت یہ ہے پاکستان خراب معاشی صورتحال کا شکار ہے جو بڑھتے ہوئے مالی اور جاری کھاتوں کے خسارے کی وجہ سے ہے درآمدات بے پناہ بڑھ رہی ہیں اور برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا اور دوسری جانب آپ صرف بنگلہ دیش کو لیں تو اس کی برآمدات 47 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں.
انہوں نے کہا کہ اس موازنے کی بجائے حکمرانوں کو اس پہلو پر توجہ دینی چاہیے کہ پاکستان فوڈ سکیورٹی رسک والا ملک بنتا جا رہا ہے اور زرعی ملک ہونے کے باوجود پاکستان گندم اور چینی کی درآمد پر مجبور ہے جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہماری فوڈ سکیورٹی ختم ہو رہی ہے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم یا ان کی حکومت نے اس کی وجوہات جاننے کے لیے کوئی کمیشن تشکیل دیا ہے پچھلے تین سالوں میں؟انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت بھی سابق حکومتوں کی طرح نمائشی کاموں میں لگی ہے ان کی بھی ٹھوس اور لانگ ٹرم منصوبہ بندی نظرنہیں آرہی.

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *