Hur Ali News

اپوزیشن رہنما نے وزیراعظم کے ٹی ٹی پی سے مذاکرات کی حمایت کر دی

سابق وزیرداخلہ رحمان ملک نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ٹی ٹی پی سے مذاکرات کے بیان کی حمایت کر دی۔ سابق وزیرداخلہ رحمان ملک نے کہا کہ ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کے حق میں ہوں ، عمران خان ٹی ٹی پی ‏کے ساتھ مذاکرات کے لیے ٹی او آرز بنائیں۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے سابق وزیر داخلہ اور رہنما پاکستان پیپلز پارٹی رحمان ملک نے کہا کہ ٹی ٹی پی پاکستان کےساتھ مخلص نہیں ہے۔
‏حکومت اگر ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے تو امن ہونا چاہئیے تھا کیونکہ قوم کوتوقع تھی ٹی ٹی پی ‏سے مذاکرات ہوئے تو امن ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی نے ہمیشہ مذاکرات کو تاخیری حربے کے طور پر استعمال کیا۔

ٹی ٹی پی مذاکرات ‏کے نتیجہ خیزمرحلے پر مکر جایا کرتی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی کے 25 ہزار دہشت گرد نورستان میں موجود ہیں اور ساڑھے7 ہزار ‏ناراض بلوچ نورستان پہنچ چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بطور وزیرداخلہ ٹی ٹی پی سے 3 بار مذاکرات کیے تھے عمران خان ٹی ٹی پی کےساتھ مذاکرات ‏کے لیے ٹی او آرز بنائیں اور پارلیمنٹ میں پیش کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغان وزیرداخلہ بینظیر بھٹو کےقتل میں ملوث اکرام محسود کو سزا دیں۔ یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے تُرک ٹی وی کو دئے گئے ایک انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ حکومت کالعدم ٹی ٹی پی میں کے کچھ گروپوں سے رابطے میں ہے۔
تُرک ٹی وی کو دئے گئے انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کالعدم ٹی ٹی پی اگر وہ ہتھیارڈال دیں تو انہیں معاف کیا جا سکتا ہے۔ کالعدم ٹی ٹی پی سے بات چیت افغان طالبان کے تعاون سے افغانستان میں ہو رہی ہے۔مذاکرات ہونے کے باوجود سکیورٹی فورسز پر ٹی ٹی پی کے حملوں کے حوالے سے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ہم بات چیت کر رہے ہیں، ہوسکتا ہے کہ کوئی نتیجہ نہ نکل سکے، مگر ہم بات کر رہے ہیں۔ افغان طالبان کے اس معاملے میں مدد کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بات چیت افغانستان میں جاری ہے اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ وہ مدد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان کے ہتھیار ڈالنے کے بعد انہیں معاف کردیں گے جس کے بعد وہ عام شہریوں کی طرح رہ سکیں گے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *