Hur Ali News

سردیو ں میں بجلی کے یکساں ٹیرف سے لائف لائن صارف کی کمرٹوٹ جائے گی.ماہرین

پاکستان میں وفاقی حکومت کی جانب سے سردیوں میں صارفین کے لیے بجلی کی قیمتوں میں کمی کی منظوری دی گئی ہے توانائی پر کابینہ کمیٹی کے ایک فیصلے کے مطابق سردیوں میں بجلی کے صارفین کو 12.66 فی یونٹ کے حساب سے بل ادا کرنا پڑے گا. تاہم یہ واضح رہے کہ اس کا اطلاق ا±ن صارفین پر ہو گا جو ماہانہ تین سو یونٹ سے زائد بجلی استعمال کرتے ہیں ملک میں تین سو یونٹ یا اس سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین پہلے ہی بجلی پر دی جانے والی سبسڈی کا فائدہ اٹھا رہے ہیں اس فیصلے کے اطلاق کے بعد تین سو یونٹ تک اور اس سے زیادہ بجلی استعمال کرنے والے صارفین تقریباً یکساں نرخوں پر بجلی کے بل کی ادائیگی کریں گے.
وفاقی حکومت کی کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے فیصلے کے تحت اس ٹیرف کا اطلاق یکم نومبر 2021 سے 28 فروری 2022 تک ہوگا، جو پاکستان میں سردی کا سیزن ہوتا ہے اس شعبے کے ماہرین کے مطابق حکومت کی جانب سے سردی کے موسم میں بجلی کے نرخ میں کمی کا مقصد سردیوں میں بجلی کی کھپت کو بڑھانا ہے اور ان کے مطابق حکومت کے اس اقدام سے غریب طبقے کو تو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا تاہم زیادہ آمدنی والے طبقے کو بجلی استعمال کرنے پر ریلیف ضرور حاصل ہو گا.
پاکستان میں بجلی کی پیداوار مختلف ذرائع جیسا کہ پانی، کوئلے، فرنس آئل، سولر، گیس وغیرہ سے کی جاتی ہے اس انرجی مکس کے تحت حاصل کی جانے والی بجلی سات سلیبز میں صارفین کو فراہم کی جاتی ہے ملک میں بجلی کے شعبے کے ریگولیٹری ادارے نیپرا کے مطابق ان سات سلیب کو بجلی کے استعمال کے لحاظ سے ترتیب دیا گیا ہے ان سلیبز میں وہ صارفین ہیں جو 50 یونٹ، 51 سے 100 یونٹ، 101 سے 200 یونٹ، 201 سے 300 یونٹ، 301 سے 700 یونٹ ، 700 یونٹ سے زیادہ اور پانچ کلو واٹ اور اس سے زیادہ کا منظور شدہ لوڈ تک استعمال کرتے ہیں.
ان سلیبز پر ٹیرف کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں 100 سے 200 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین 10.06 روپے فی یونٹ ادا کرتے ہے اور 200 سے 300 یونٹ کا نرخ 12.15 روپے فی یونٹ ہے اسی طرح 301 سے 700 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کو 21 روپے سے زائد ایک یونٹ پر ادا کرنا ہوتے ہیں اور 700 سے زیادہ یونٹ استعمال کرنے والوں کو 24.30 روپے فی یونٹ ادائیگی کرنی پڑتی ہے ان نرخوں میں سیلز اور دیگرٹیکس، فیول ایڈجسٹمنٹ وغیرہ شامل کیا جائے تو فی یونٹ قیمت مزید بڑھ جاتی ہے.
وفاقی حکومت کی کابینہ کیمٹی برائے توانائی نے سردیوں کے مہینے میں 300 یونٹ سے زائد بجلی استعمال کرنے پر ایک نئے ٹیرف کی منظوری دی ہے جس کے مطابق 300 یونٹ سے زائد بجلی استعمال کرنے پر 12.66 روپے فی یونٹ کے حساب سے بجلی کا بل وصول کیا جائے گا اس ٹیرف کا اطلاق سردیوں کے چار مہینوں یعنی یکم نومبر 2021 سے 28 فروری 2022 تک رہے گا موجودہ وقت میں 300 یونٹ سے زائد بجلی استعمال کرنے والے کو ایک یونٹ پر 22 روپے سے زیادہ بل ادا کرنا پڑتا ہے جن میں ٹیکس شامل نہیں ہے.
حکومت کے اعلان کے مطابق یہ اقدام سردیوں کے موسم میں بجلی کے استعمال کر بڑھانے کے لیے اٹھایا گیا ہے پاکستان میں گرمی کے موسم میں بجلی کا استعمال 25 ہزار میگا واٹ سے بھی زیادہ رہتا ہے جب کہ سردیوں میں بجلی کی طلب تقریباً آدھی رہ جاتی ہے یعنی 12 سے 14 ہزار میگاواٹ کے درمیان رہ جاتی ہے. حکومت کی جانب کیا گیا اقدام موسم سرما کے دوران بجلی کے استعمال کو بڑھانا ہے کیونکہ بجلی بنانے والے پلانٹس سے کیے جانے والے معاہدوں کے تحت حکومت پیدا ہونے والی بجلی کی ادائیگی کی پابند ہے، چاہے وہ بجلی استعمال ہو یا اس کا استعمال نہ کیا جائے حکومت بجلی بنانے والے پلانٹس کو کیپسٹی پیمنٹ کی مد میں یہ ادائیگی کرنی کی پابند ہے اس سلسلے میں توانائی کے شعبے کے ماہر عامرراﺅ کہتے ہیں کہ حکومت کا یہ فیصلہ دراصل سردیوں میں پیدا ہونے والی بجلی کو استعمال میں لانا ہے کیونکہ گرمیوں میں تو بجلی کی کھپت زیادہ ہوتی ہے لیکن سردیوں میں اس کی طلب بہت زیادہ گر جاتی ہے اس فیصلے کا صارفین کو ریلیف دینے سے کوئی تعلق نہیں.
انہوں نے کہا سردیوں کے لیے کم نرخ کا فائدہ ماہانہ 300 یونٹ سے زیادہ استعمال کرنے والوں کو ہوگا پاکستان میں کم آمدنی یا غریب طبقہ ماہانہ 300 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرتا ہے اس لیے وہ اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکے گا عامرراﺅنے بتایا کہ 300 یونٹ سے زائد بجلی وہاں استعمال ہوتی ہے جہاں اے سی چل رہا ہو، اس لیے حکومت چاہتی ہے کہ سردیوں میں اے سی نہیں چل رہا تو بجلی کی کھپت کو برقرار رکھنے کے لیے صارفین ہیٹر اور گیزر بجلی پر چلائیں جس کے لیے انہیں سردیوں میں کم نرخ پر بجلی کی فراہم کی مراعات دی گئی ہے.
توانائی کے شعبے کے ماہر اورسابق چیئرمین پیپکو طاہربشارت چیمہ نے کہا کہ پاکستان میں جس قیمت پر بجلی بنتی ہے وہ اس قیمت سے ایک تہائی حصے پر فروخت ہوتی ہے، اس لیے ملک میں توانائی کے شعبے میں سرکلر ڈیبٹ کا مسئلہ کھڑا ہوا ہے انہوں نے کہا کہ یہ درست ہے کہ سبسڈی دینے سے ہمارے توانائی کے شعبے کا بر±ا حال ہوا ہے اور اس میں سرکلر ڈیبٹ کا مسئلہ بنا ہے مگر حکومتوں کی جانب سے سستی بجلی کی پیدوار بڑھانے کے لیے اقدامات نہیں کیئے گئے سردی کے موسم میں حکومت کی جانب بجلی کے نرخ میں کمی اس کے استعمال کو بڑھانے کا ایک طریقہ ہے جس کے ذریعے وہ سردیوں میں گیس کی کھپت کو مینیج کرنا چاہتی ہے.
انہوں نے کہاکہ اس اقدام کا اصل مقصد یہی ہے کیونکہ گیس کے استعمال کوکم رکھا جائے کیونکہ گیس اس وقت ہمارے پاس ہے نہیں اور باہر سے درآمد کی جانے والی ایل این جی ہم ایک خاص حد سے زیادہ منگوا نہیں سکتے کیونکہ وہ ملکی صارفین کو بہت مہنگی پڑتی ہے. سنیئرصحافی میاں محمد ندیم نے کہا کہ حکومتوں کا یہ پرانا طریقہ واردات ہے کہ سردیوں کے آغازپر گیس کی قیمتوں میں اضافہ اور بجلی قیمتوں میں کمی کردی جائے مگر تحریک انصاف کی حکومت نے تو کمال کردیا ہے انہوں نے کہا کہ یکساں ٹیرف سے ان غریب اور کم آمدنی والے صارفین کو نقصان ہوگا جن کے نام پر حکومت نے سردیوں کے تین ماہ کے لیے یکساں ٹیرف نافذکرنے کا اعلان کیا ہے انہوں نے کہا کہ 12روپے66پیسے کا ریٹ ٹیکس کے بغیرہے اگر ہم صرف ایک کمپنی لیسکو کو دیکھیں تو لیسکو صارفین سے27مختلف ٹیکس وصول کرتی ہے انہوں نے کہا کہ چونکہ نوٹیفکیشن انتہائی مبہم ہے اور اس میں وضاحت نہیں کی گئی کہ یکساں ٹیرف تمام صارفین پر لاگو ہوگا؟انہوں نے کہا کہ جو صارفین سردیوں کے تین ماہ کے دوران بجلی کے بلوں سے کچھ پیسے بچا لیتے تھے حکومت نے ان کے لیے یہ راستہ بھی بند کردیا ہے.
انہوں نے کہا کہ بجلی کی پاورپلانٹس سے بجلی گھروں اور بجلی گھروں سے صارفین تک ترسیل کے لیے جو نظام ہے وہ انتہائی فرسودہ ہے اور اس کی وجہ سے بہت زیادہ لائن لاسزہوتے ہیں اس میں نجی طور پر مرمت شدہ ٹرانسفارمرز بھی شامل ہیں اور صرف لاہور شہر میں ایک محتاط اندازے کے مطابق 50فیصد سے زائد ٹرانسفارمرزنجی مکینکوں سے مرمت کرواکر چلائے جارہے ہیں .
انہوں نے بتایا کہ یہ ٹرانسفارمرلائن لاسزکا ایک بڑا سبب ایسے بنتے ہیں کہ انہیں صرف ایک بار چلانے کے لیے مرمت کروایا جاتا ہے جن کی مرمت پر خرچ ہونے والے پیسے متعلقہ علاقے کا لائن سپرنٹنڈنٹ اداکرتا ہے لائن سپرنٹنڈنٹ اس کام کے لیے رشوت لینے پر مجبور ہوتا ہے اگر وہ رشوت نہیں لے گا تو اسے یہ ٹرانسفارمراپنی جیب سے مرمت کروانا ہونگے جو کہ ممکن نہیں.
انہوں نے بتایا کہ ہر لائن سپرنٹنڈنٹ رشوت سے حاصل ہونے والی آمدنی کا ایک حصہ اس مقصد کے لیے مختص کرتا ہے اور شدید گرمی کے تین سے چار مہینوں میں وہ یہ رقم ٹرانسفارمرزکی مرمت پر خرچ کرتا ہے انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ افسوسناک یہ بات ہے کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے اعلی افسران سے لے کر سیکرٹری پاوراور متعلقہ وزیرسب کے علم یہ ”نیٹ ورک“ہے مگر سب سے آنکھیں بند کرکے عام صارفین کو رشوت خور درندوں کے رحم وکرم پر چھوڑا ہوا ہے.

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *